Happy یومِ مزدور خراج، سوال اور ضمیر کی دستک
Happy Labor Day
(سُمیرا کاجل)
نارووال
یکم مئی کا سورج جب افق سے ابھرتا ہے تو اس کی کرنیں ہمیں مزدور کے پسینے میں لپٹی وہ کہانیاں سناتی ہیں، جنہیں ہم نے کبھی غور سے سنا ہی نہیں۔ آج کا دن صرف تقاریر، جلسوں اور سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود ہو چکا ہے، لیکن کسی نے سوچا ہے کہ آج بھی ہزاروں مزدور یومِ مزدور پر مزدوری کر رہے ہیں، تاکہ شام کو ان کے بچوں کے پیٹ کی آگ کچھ دیر کو ہی سہی، ٹھنڈی ہو جائے؟
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہمارے اپنے گھروں میں کام کرنے والے ملازمین بھی مزدور ہی ہوتے ہیں؟ جو دن رات ہمارے آرام و سکون کی قیمت اپنی نیند، صحت اور کبھی کبھی عزت تک دے کر چکاتے ہیں۔ کیا ہم میں وہ اخلاقی جرات ہے کہ ہم آج کے دن انہیں ایک مسکراہٹ، ایک محبت بھرا کلمہ یا کوئی چھوٹا سا تحفہ دے سکیں؟ شاید نہیں، کیونکہ ہم نے انہیں “کم تر” سمجھ کر ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جس کے اس پار انسانیت کی سانسیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔
مزدور کا بچہ خواب بھی دیکھتا ہے، لیکن اس کے خوابوں پر غربت کی دھول اتنی گہری ہے کہ روشنی کی کوئی کرن وہاں تک پہنچ نہیں پاتی۔ وہ بچہ جو آج کچرے سے پلاسٹک چن رہا ہے، کل کو معاشرے کا کیا بنے گا؟ کیا ہم اسے صرف ایک “چائلڈ لیبر” کہہ کر نظرانداز کر دیں گے یا اس کے ہاتھ میں قلم تھمانے کی کوئی کوشش کریں گے؟
فی زمانہ جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، کیا ایک مزدور کو اس کی مزدوری پوری ملتی ہے؟ افسوس کہ جواب پھر بھی “نہیں” ہے۔ اس کی محنت کی قیمت طے کرتے وقت ہم انسان کو نہیں، صرف فائدہ اور خرچ دیکھتے ہیں۔ اور پھر توقع رکھتے ہیں کہ وہ خندہ پیشانی سے زندگی جئے، شکر کرے اور صبر کی چادر اوڑھ کر اپنے بچوں کے خواب دفن کرتا رہے۔
کب جلے گا مزدور کی زندگی میں سکھ کا دیا؟ کب وہ دن آئے گا جب مزدور کے ہاتھ میں صرف اوزار نہیں، بلکہ اختیار بھی ہوگا؟ شاید اسی دن جب ہم سب اپنی اپنی جگہ ضمیر سے سوال کریں گے، کہ کیا صرف یومِ مزدور منانے سے مزدور کو اس کا حق مل جائے گا؟ جب تک ان کے پسینے کا صلہ انصاف سے نہیں ملتا، یہ دن صرف ایک رسمی تاریخ بن کر رہ جائے گا۔
آئیے، آج صرف تقاریر نہ کریں، بلکہ ایک مزدور کی آنکھ میں جھانک کر دیکھیں وہاں شاید امید کی آخری کرن ہو، جو ہماری توجہ کی منتظر ہے۔