رنگین پرندے کی سوچ - خوبصورتی کا اصل راز (The Colorful Bird's Thought - The Real Secret of Beauty)

 رنگین پرندے کی سوچ – خوبصورتی کا اصل راز

(The Colorful Bird’s Thought – The Real Secret of Beauty)

 

جنگل کا حسین پرندہ
رنگ برنگے پھولوں والے جنگل میں ایک ننھا سا پرندہ “رنگیلا” رہتا تھا۔ اس کے پروں میں ہرے کے جھمکے، نیلے کے ٹکڑے، سرخ کے دھبے اور سنہری کی جھلک تھی۔ جب وہ اڑتا تو ایسا لگتا جیسے آسمان میں قوس قزح ناچ رہی ہو۔ تمام جانور اسے دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے، مگر رنگیلا ہمیشہ اداس رہتا۔

حسد کی آگ
ایک دن رنگیلا نے دیکھا مور کے پر ہزار آنکھوں والے تھے، طوطے کی چونٹ موتیوں جیسی چمکتی تھی، اور بلبل کی آواز میں موسیقی تھی۔ وہ اپنے آپ میں کمین محسوس کرنے لگا۔ وہ روزانہ دریا کے کنارے جاتا اور پانی میں اپنا عکس دیکھ کر کہتا:
“کاش! میرے پر مور جیسے ہوتے… میری آواز بلبل جیسی ہوتی… میری چونٹ طوطے جیسی چمکتی!”

عقاب کی دانائی
ایک بوڑھا عقاب “حکیم” جو ہمیشہ بلندی پر بیٹھا رہتا، نے رنگیلا کی پریشانی بھانپ لی۔ وہ نیچے اترا اور پوچھا: “بیٹا! تمہارے پاس تو وہ سب کچھ ہے جو دوسرے چاہتے ہیں، پھر اداس کیوں ہو؟”

رنگیلا نے کہا: “حکیم بابا! میرے پاس سب کچھ ہے مگر میں وہ سب کچھ نہیں ہوں جو دوسرے ہیں

عقاب نے مسکراتے ہوئے کہا: “تمہاری خوبصورتی تمہاری پہچان ہے۔ مور کے پر میں تمہاری چمک نہیں، بلبل کی آواز میں تمہاری اڑان نہیں۔ ہر ایک کی اپنی خاصیت ہے۔”

خودشناسی کا سفر
عقاب نے رنگیلا کو جنگل کے ہر خاص پرندے سے ملوایا:

مور نے بتایا: “میرے بھاری پر مجھے اونچا نہیں اڑنے دیتے”

طوطے نے کہا: “میری چمکتی چونٹ میں میٹھے پھل نہیں کاٹ سکتی”

بلبل نے بتایا: “میں رات میں ہی گا سکتی ہوں”

اپنی پہچان
رنگیلا کو احساس ہوا کہ وہ ہر موسم میں اڑ سکتا ہے، ہر بلندی تک جا سکتا ہے، اور اس کے پر بارش میں بھی نہیں بھیگتے۔ ایک دن اس نے دیکھا ایک بچہ پرندہ گھونسلے سے گر رہا ہے۔ رنگیلا نے فوراً تیز اڑان بھری اور بچے کو بچا لیا۔ تمام جانوروں نے اس کی بہادری کی تعریف کی۔

اب رنگیلا سمجھ گیا تھا: “ہر کسی میں کوئی نہ کوئی خاص بات ہوتی ہے – اپنی خوبی پہچاننا ہی اصل خوبصورتی ہے

 

سبق (Moral)
دوسروں سے جلنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی انوکھی خوبی ضرور ہوتی ہے۔

 رابطہ: sunilsk2you@gmail.com

 ویب سائٹ: urdustories.xyz

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *