بادشاہ اور دریا کی پازیب – خوشی کا اصل خزانہ

(The King and the River’s Anklet – The Real Treasure of Happiness)

خالی قلعے کا بادشاہ
سلطنتِ زرین کا بادشاہ شہریار دنیا کے سب سے شاندار محلات میں رہتا تھا۔ اس کے پاس ہیروں سے جڑا تخت، سونے کے برتن، اور خزانے کے کمرے میں اتنا سونا تھا کہ دروازے بند کرنے پر قفل ہلتی تھی۔ مگر ایک عجیب بات تھی – قلعے کی دیواروں میں خوشی کی آواز کبھی نہیں گونجتی تھی۔ بادشاہ کے چہرے پر ہمیشہ اُداسی کی پرچھائیاں رہتیں، کیونکہ اُس کا دل خزانے سے نہیں بھرتا تھا۔

دریا کنارے ملنے والا راز
ایک بہار کی صبح جب بادشاہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر دریائے سون کے کنارے گھوم رہا تھا، اُس نے دیکھا ایک غریب لڑکی “مہک” پانی کے کنارے پازیبیں (پایال) بنا رہی ہے۔ وہ گانے کے ساتھ پازیبوں میں گھنٹیاں پرو رہی تھی:
“بنوں گی پازیب چاندی کی، بجے گی موسیقی خوشی کی
بانٹوں گی مسکراہٹیں سب میں، یہ ہے میری دولتِ زندگی کی”

بادشاہ حیران رہ گیا۔ اُس نے پوچھا: “تمہارے پاس نہ پیسہ ہے نہ محل، پھر تم اس قدر خوش کیوں ہو؟”

خوشی کا سبق
مہک نے ایک پازیب بادشاہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: “جناب! خوشی تو بانٹنے سے ملتی ہے۔ یہ لو، یہ پازیب آپ کے پاؤں میں بجے گی تو آپ بھی خوشی محسوس کریں گے

بادشاہ نے پازیب پہنی تو ایسی میٹھی جھنکار سنائی دی جیسے دریا کی لہریں گا رہی ہوں۔ اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ خزانے سے زیادہ قیمتی چیز دوسروں کو خوشی دینا ہے۔

سلطنت کی تبدیلی
بادشاہ نے اگلے دن ہی اعلان کیا: “آج سے میرا خزانہ غریبوں میں بانٹا جائے گا
پوری سلطنت میں جشن کا ماحول بن گیا۔ بادشاہ خود بازاروں میں جاتا، بچوں کے ساتھ کھیلتا، اور بوڑھوں کے کام آتا۔ اب اُس کے قلعے میں ہنسی کی آوازیں گونجنے لگیں۔

حقیقی خزانے کی دریافت
ایک دن مہک پھر دریائے سون کے کنارے ملئی۔ بادشاہ نے کہا: “تم نے مجھے سکھایا کہ خوشی کا تعلق دینے سے ہے – نہ کہ لینے سے۔”
مہک مسکراتے ہوئے بولی: “جناب! آپ کی سلطنت اب سچے موتیوں سے جگمگا رہی ہے – اور وہ موتی ہیں آپ کے رعایا کے مسکرائے ہوئے چہرے

سبق (Moral):
سونا اور ہیرے عارضی خوشی دیتے ہیں، مگر دوسروں کے دلوں کو خوشی دینا ہمیشہ قائم رہنے والا خزانہ ہے۔

📬 رابطہ: sunilsk2you@gmail.com
🌐 ویب سائٹ: urdustories.xyz

کیا آپ جانتے ہیں؟
ہماری ویب سائٹ پر آپ ہر کہانی کے ساتھ فری ایکٹیویٹی شیٹس بھی ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں!

The King and the River's Anklet

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *